واشنگٹن: امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں تعاون نہ ملنے پر کئی ممالک پر سخت نکتہ چینی کی اور دنیا سے ناراضگی کا اظہار کیا۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ امریکہ نیٹو کے لیے ہمیشہ موجود رہا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ ممالک تعاون میں غیر موجود رہے، حالانکہ امریکہ نے نیٹو کے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ امریکہ پچھلے 40 سال سے کئی ممالک کی حفاظت کر رہا ہے، مگر بعض ممالک اب بھی آبنائے ہرمز میں تعاون کے لیے پُرجوش نہیں ہیں، جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کی امریکہ نے دہائیوں تک مدد کی ہے اور انہیں بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا۔
صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد برطانیہ نے جنگی طیارے بھیجنے کا اعلان کیا، تاہم انہیں بتایا گیا کہ اب طیارہ بردار جہاز کی ضرورت نہیں ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایرانی رجیم کے اہم اثاثے ختم کر دیے ہیں، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی گئی ہیں، اور ایران کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔ صدر نے کہا کہ وہ ممالک جن کا تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، آگے بڑھ کر تعاون کریں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں مذاکرات کے قابل قیادت موجود نہیں، پچھلی قیادت امریکی عوام کے ساتھ فراڈ میں ملوث تھی، اور ان کے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈر بھی زندہ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ: نثار باز خان کی زیر نگرانی پی کے 22 کے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد کی فراہمی جاری
انہوں نے زور دیا کہ پرتشدد لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ اگر ایران کے پاس ایٹمی بم ہوتا تو وہ امریکہ کے خلاف استعمال کرتا، اور ایران اپنے پڑوسیوں پر میزائل حملے کر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کی قیادت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
صحافی کے سوال پر کہ کیا جنگ اس ہفتے ختم ہو جائے گی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں بتایا جا سکتا لیکن جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔
صدر نے یہ بھی بتایا کہ وہ چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکہ میں موجودگی ضروری ہونے کی وجہ سے اس دورے کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔





