اسلام آبا: وفاقی وزارت اطلاعات عطا تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ پاک افواج نے 16 مارچ کی شب آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان رجیم کے دہشت گردی کے معاون فوجی ٹھکانوں پر کامیاب فضائی حملے کیے۔
یہ کارروائی پاکستان اور خطے میں دہشت گردی کے خطرات کو ختم کرنے اور عوام کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئی۔عطا تارڑ کے مطابق کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا۔
حملوں کے بعد ہونے والے سیکنڈری دھماکے واضح کرتے ہیں کہ یہ بڑے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر تھے، جو طالبان رجیم کے دہشت گرد پراکسیز، بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندستان، کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
ننگرہار میں پاک افواج نے چار اہم فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے، جہاں لاجسٹک، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔
✅ 17 March 2026
✅ Pakistan’s Armed Forces successfully carried out precision airstrikes on the night of 16 March as a part of Operation Ghazab Lil Haq, targeting Afghan Taliban regime terrorism sponsoring military installations in Kabul and Nangarhar.
✅ Technical support… pic.twitter.com/b8YJkGC0cv
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 16, 2026
وزارت اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں صرف انہی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو افغان طالبان رجیم کی دہشت گرد سرگرمیوں میں براہِ راست معاونت فراہم کر رہے تھے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ طالبان رجیم کے پروپیگنڈا دعوے جھوٹے ہیں اور افغان عوام و دنیا کو ان کے دہشت گردی کے تعاون سے بہکانے میں ناکام ہیں۔
حملوں میں جمع کی گئی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان کے اسلحہ کے ذخائر اور دہشت گرد پراکسیز کے لیے استعمال ہونے والے انفراسٹرکچر تباہ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی کا مسلم ممالک کو کھلا خط
وزارت اطلاعات نے کہا کہ آپریشن غضب للحق جاری رہے گا تاکہ پاکستان کے شہریوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔
اس اقدام کے ذریعے حکومت اور افواج پاکستان واضح کر رہی ہیں کہ دہشت گردوں اور ان کے پراکسیز کے خلاف کارروائیاں مکمل ہونے تک جاری رہیں گی اور کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ یہ آپریشن خطے میں دہشت گردی کی معاونت کرنے والے گروہوں کے لیے ایک مضبوط پیغام بھی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔





