افغان طالبان کے دعوے کے برعکس کابل کے وسط میں واقع بحالی مرکز پر حملے کے حوالے سے زمینی حقائق سامنے آ گئے ہیں۔ طالبان نے مقامی صحافیوں کو اسٹرائیک سائٹ تک رسائی دی، اور دیر رات کے انتظار کے بعد میڈیا ٹیم کو جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کی اجازت ملی۔
ذرائع کے مطابق، موقع پر معائنہ کرنے کے دوران نہ خون کے کوئی نشانات دیکھے گئے اور نہ ہی کسی بڑے نقصان کے شواہد سامنے آئے۔ زویہ نیوز، افغان ٹائمز اور دیگر مقامی میڈیا اداروں نے بھی اب تک کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
اگرچہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ بحالی مرکز پر کیا گیا، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ موقع پر صرف معمولی ساختی نقصان اور آگ کے اثرات دیکھے گئے۔ موجود افراد کے مطابق دھماکہ اصل حملے کے مقام سے کچھ فاصلے پر ہوا، جبکہ بحالی مرکز کا علاقہ محفوظ رہا۔
مقامی ذرائع نے مزید بتایا کہ نقصان صرف اسی جگہ تک محدود تھا جہاں آگ بھڑکی، باقی علاقہ مکمل طور پر محفوظ اور صحیح حالت میں تھا، اور دورے کے دوران کوئی زخمی بھی موجود نہیں تھا۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ بحالی مرکز کے قریب لگنے والی آگ معمولی نوعیت کی تھی اور ممکنہ طور پر قریب موجود طالبان کے ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنانے کے باعث لگی، جہاں اسلحہ کے ذخیرے میں دھماکے اور شعلے دیکھے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ طالبان کے دعوے کی حقیقت کو یکسر رد کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ اس پروپیگنڈے کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔





