کامران علی شاہ
پشاور ہائیکورٹ نےسفری دستاویزات نہ ہونے پرگرفتار افغان باشندوں کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے بغیر سفری دستاویزات کے گرفتار افغان مہاجرین کی درخواستوں پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں عدالت نے تمام درخواستیں خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے یہ تمام افراد افغان باشندے ہیں جن کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے کوئی قانونی سفری دستاویزات موجود نہیں ہیں، اسی بنا پر انہیں 14 فارن ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومتِ پاکستان کے اس اعلامیے کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں ہے اور حکومت انہیں واپس بھیجنے کا نوٹیفیکیشن پہلے ہی جاری کر چکی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ درخواست گزاروں کی ملک بدری کے لیے ضروری اقدامات یقینی بنائیں۔
فیصلے میں ماتحت عدالتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر ان افراد کے خلاف ٹرائل مکمل کریں اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کیسز فوری طور پر عدالتوں میں منتقل کیے جائیں۔
فیصلے کی نقول عمل درآمد کے لیے آئی جی خیبر پختونخوا، پشاور جیل سپرٹنڈنٹ اور ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کو ارسال کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔





