پشاور: خیبرپختونخوا میں سینکڑوں قیدی خصوصی مواقع پر ملنے والی معافی سے محروم رہ گئے ہیں اور وہ اس عید کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاریں گے۔
ذرائع کے مطابق قیدیوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معافی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور امتیازی سلوک کا نوٹس لیں۔
قیدیوں کا موقف ہے کہ صوبے میں قیدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور ایک ایسا قانون ان پر لاگو کیا گیا ہے جس کا اطلاق دیگر صوبوں، جیسے پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ایسے مقدمات میں قید ملزموں پر نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود انہیں معافی نہیں دی جا رہی، جو کہ توہین عدالت کے مترادف ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سینکڑوں قیدی قانونی اور آئینی بنیادوں پر معافی کے اہل ہیں، اور ان کو رہا کیا جا سکتا ہے، مگر اب بھی کئی غریب قیدی غیرآئینی اور غیرقانونی اضافی قید کاٹ رہے ہیں۔
قیدیوں نے اس غیر منصفانہ رویے کے خاتمے کے لیے اعلیٰ عدلیہ اور صوبائی حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایف بی آر متحرک، پشاور میں سمگل شدہ سگریٹ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن متوقع
مقامی ذرائع کے مطابق قیدیوں کی یہ صورتحال عوامی اور انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے بھی تشویشناک ہے اور قانونی حلقوں نے بھی اس معاملے پر نوٹس لینے کا عندیہ دیا ہے۔
عید کے موقع پر سینکڑوں قیدیوں کا جیل میں رہنا صوبے میں انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے اہم سوالات کھڑا کرتا ہے۔





