اسرائیل کے حملے اور ایران-قطر کشیدگی: ٹرمپ نے مزید حملوں کی مخالفت کر دی

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم توانائی گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایرانی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کر دی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو پہلے ہی واضح پیغام دیا جا چکا ہے، اس لیے توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : قطر نے گیس فیلڈ پر حملے کے بعد 2 ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا

تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے تو وہ دوبارہ ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز ایران کے جنوبی پارس ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور ایران کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ امریکی صدر کو اس حملے کا پیشگی علم تھا، تاہم انہوں نے اس پر فوری کارروائی کی مخالفت کی۔

حالیہ کشیدگی کے بعد ایران نے ساؤتھ پارس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے میں تمام تیل اور گیس تنصیبات کو اپنا ممکنہ ہدف قرار دیا ہے، خاص طور پر وہ جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت یا زیر انتظام ہیں۔

اسی دوران ایران نے قطر میں راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل سے حملہ کیا، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ قطر انرجی کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع، نوٹم جاری

قطر نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور اسے خطرناک کشیدگی اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطر کی حکومت نے کہا کہ اس قسم کی کارروائیاں خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

Scroll to Top