سہیل آفریدی کا بڑا اعلان! نوجوانوں کے ہنر اور روزگار کیلئے اربوںکے پروگرامز پر عملی نتائج کیلئے اقدامات کی ہدایت

سہیل آفریدی کا بڑا اعلان! نوجوانوں کے ہنر اور روزگار کیلئے اربوںکے پروگرامز پر عملی نتائج کیلئے اقدامات کی ہدایت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفرِیدی کی زیر صدارت ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں نوجوانوں کی فلاح، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی ترقی کے لیے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس کے واضح اور عملی نتائج سامنے آئیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر اور روزگار فراہم کرنے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا اور اسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ ایمپلائمنٹ پروموشن پروگرام پر مؤثر عمل درآمد کی ہدایت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کے تحت 42 ہزار نوجوانوں کو فی کس اوسطاً 73 ہزار روپے اسٹارٹ اپ گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اب تک 5,445 نوجوانوں میں 39.7 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ پشاور میں 750 تربیت یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اور مجموعی طور پر 25 ہزار نوجوانوں کی انٹرن شپ اور پلیسمنٹ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

احساس ہنر پروگرام کے تحت تین ارب روپے کی لاگت سے نوجوانوں کو پانچ لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں اب تک 1,211 درخواست گزاروں میں 58.5 کروڑ روپے تقسیم ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیوٹا کے تحت نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ کرنے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس میں ہر ٹرینی کو 15 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ اب تک 88 نوجوانوں کو مختلف صنعتی یونٹس میں آن جاب ٹریننگ فراہم کی گئی ہے جبکہ 560 نوجوانوں کی 85 صنعتی یونٹس میں کامیاب پلیسمنٹ ہو چکی ہے۔

ضم اضلاع کے لیے 685 ملین روپے کی لاگت سے تیز رفتار اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 3,000 نوجوانوں کو مالی و تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت 800 نوجوانوں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 520 نوجوانوں کو نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) اور 1,400 نوجوانوں کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پلیسمنٹ دی جا چکی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفرِیدی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام پروگرامز پر ٹھوس حکمت عملی کے تحت عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔

Scroll to Top