بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق مبینہ پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔
بھارتی جریدے سکرول ان کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی سرکار نے توانائی بحران پر عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے جعلی خبروں کا سہارا لیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو درپیش توانائی بحران نے عوامی سطح پر شدید غصہ پیدا کیا جس پر قابو پانے کے لیے مودی حکومت نے اپنے حامی میڈیا کا استعمال کیا۔
گزشتہ ہفتے بھارتی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے بھارت کو آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے تاہم اس دعوے کو بعد ازاں بے بنیاد قرار دیا گیا۔
سکرول ان کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ نے بھی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ بھارتی جہازوں کے لیے کوئی خصوصی یا جامع بندوبست موجود نہیں ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی دباؤ کے تحت مودی حکومت نے ایرانی تیل اور چابہار بندرگاہ میں شراکت داری ختم کر دی جبکہ ایرانی ٹینکرز کے معاملے پر اقدامات سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے، اس صورتحال کے باعث ایران موجودہ حالات میں بھارت کو غیر جانبدار نہیں سمجھتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود مودی حکومت اپنے دور اقتدار میں بھارت کو توانائی کے شعبے میں خودمختاری فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور ملک محدود اثر و رسوخ کا شکار ہو چکا ہے۔





