خیبر پختونخوا میں سامنے آنے والی ویڈیوز اور رپورٹس نے واضح کر دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے خوارج کمسن بچوں کو ہتھیار تھما کر شدت پسندی کی فیکٹری چلا رہے ہیں۔
ماہرین اور سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عمل بہادری نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی ایک سفاک کوشش ہے۔
یہ گروہ بچوں کو گھٹیا نعرے لگوانے اور گن کلچر سکھانے کے ذریعے معاشرے میں خوف اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ چند ویڈیوز کو بنیاد بنا کر یہ نتیجہ اخذ کرنا کافی نہیں لیکن مجموعی رویے اور بچوں کے ساتھ کیے جانے والے مظالم خوارج کے اصل مقاصد کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درخت جلوانا، ہتھیار دلوانا اور بچوں کو استعمال کرنا طاقت نہیں بلکہ تباہی کا طریقہ کار ہے، آج اگر قوم خاموش رہی تو کل انہی بچوں کے ہاتھوں میں قلم نہیں بلکہ بارود ہوگا۔
سکیورٹی اور سماجی حلقوں کے مطابق خوارج کا بیانیہ اسلام نہیں بلکہ فساد، جبر اور انسانی وقار کی تذلیل ہے، ایسے مناظر صوبائی حکمرانی اور مقامی سیاسی قیادت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان میڈیا کی تحقیقات نے بھی طالبان دعوے کو بے نقاب کر دیا، ہسپتال پر حملے کا دعوی جھوٹا ثابت
دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فورسز کی نہیں، بلکہ ریاست، علما، والدین اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو شدت پسندی کی جانب دھکیلنے سے روکیں اور انہیں تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کی طرف مائل کریں۔





