شانگلہ اور بشام میں عید اندھیرے کی نذر، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے شہری سراپا احتجاج

شانگلہ اور بشام میں عید الفطر کی خوشیاں بجلی کے بدترین بحران کی نذر ہو گئیںجہاں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے ہزاروں شہریوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔

چاند رات سے شروع ہونے والا بجلی کی بندش کا سلسلہ عید کے روز بھی بشام شہر اور شانگلہ کے دیگر علاقوں میں برقرار رہا، جس نے عید کی تیاریوں اور خوشیوں کو ماند کر دیا۔

شانگلہ ضلع اپنے مقامی ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ذریعے قومی گرڈ کو تقریباً 90 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے عوام روزانہ 12 سے 20 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ جھیلنے پر مجبور ہیں۔

بشام کے رہائشیوں اور تاجر برادری نے اس صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید جیسے اہم تہوار کے موقع پر بھی بجلی کی عدم فراہمی سمجھ سے باہر ہے۔

اس بحران نے نہ صرف جشن کے ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ ان کاروباروں کو بھی مفلوج کر دیا ہے جن کا دارومدار ریفریجریشن اور الیکٹرانک سروسز پر ہے۔

مقامی سماجی رہنماؤں نے اس صورتحال کو “بدترین امتیازی سلوک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شانگلہ کے دریا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کو روشن کر رہے ہیں مگر خود یہاں کے باسی اپنی کم از کم ضرورت یعنی محض 7 میگاواٹ بجلی کے لیے ترس رہے ہیں۔

Scroll to Top