چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی نفی ہے بلکہ یہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
پانی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پانی ہماری زمین کی رگِ حیات ہے اور یہ ایک ایسی مشترکہ نعمت ہے جو انسانوں کو آپس میں جوڑتی اور تہذیبوں کی بنیاد کو مضبوط بناتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی جیسے قیمتی وسائل کا تحفظ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ پائیدار طرزِ زندگی اپنائیں تاکہ ہر شہری کو صاف پانی تک منصفانہ اور مساوی رسائی حاصل ہو سکے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی سندھ طاس معاہدہ کو معطل یا کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دریاؤں کا بہاؤ روکنے اور ڈیمز کی تعمیر کی مسلسل کوششیں دراصل پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہیں جو ایک غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ غیر محفوظ ہوا تو کوئی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا، عاصم افتخار
بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کا فوری نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ان کی روح اور متن کے مطابق کیا جائے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے امید ظاہر کی کہ پانی کا عالمی دن آبی وسائل کے تحفظ، بین الاقوامی تعاون اور انصاف کے فروغ کے لیے عالمی عزم کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔





