عید کے دوسرے دن فتنہ الخوارج نے سنٹرل کرم کے علاقے جابو پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، جب وہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔
واقعے کے دوران پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو خوارج ہلاک ہو گئے۔
موقع پر موجود مزدور اپنے کام میں مصروف تھے اور چند پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات تھے۔
فتنہ الخوارج نے تعمیراتی کام روکنے کا مطالبہ کیا، جس پر پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، اس دوران چند مزدور اور پولیس اہلکار بھی اغوا کر لیے گئے، تاہم مقامی مشران کے ذریعے مذاکرات کے بعد اغواء شدگان کو بحفاظت رہا کروا لیا گیا، پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر مکمل قابو پا لیا گیا۔
واقعہ ایک بار پھر یہ واضح کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج معصوم شہریوں اور مزدوروں کی حرمت کا خیال نہیں رکھتے اور اپنے نظریاتی دعووں کے پیچھے چھپ کر خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل اور اہلِ تشیع علماء کے درمیان ہونے والی ملاقات کو بھی جان بوجھ کر متنازع بنایا جا رہا ہے، علامہ آصف رضا علوی
یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر مقامی آبادی کے دشمن ہیں، اور خطے میں دیرپا امن کے لیے ریاست اور عوام کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔





