عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں نے ایک بار پھر تیزی کا رخ اختیار کر لیا ہے اور قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں، جس نے توانائی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3 فیصد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت ساڑھے 3 فیصد اضافے کے ساتھ 91 ڈالر 20 سینٹ فی بیرل تک ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم حالیہ اضافے نے ایک بار پھر قیمتوں کے رجحان کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو تیل اور اسٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں مزید بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سیاسی صورتحال، سپلائی خدشات اور مارکیٹ میں غیر یقینی عوامل تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔





