پشاور: لشکر اسلام کے سربراہ مفتی منیر شاکر قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ ارمڑ کی حدود میں معروف عالم دین مفتی منیر شاکر پر جاں لیوا حملہ ہوا ہے۔حملے میں مفتی منیر شاکر اور ان کے ساتھی خوشحال، عابد اور سید نبی زخمی ہوگئے تھے۔
زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں مفتی منیر شاکر زخموں کی تالاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق سڑک پر دستی بم نصب کیا گیا تھا ، مفتی منیر شاکر کی گاڑی قریب آتے ہیں دستی بم پھٹ گیا جس سے مفتی منیر شاکر اور ان کے ساتھی زخمی ہوگئے تھے۔
پولیس افسران، بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے افسران موقع پر موجود ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
تمام زخمیوں کو فوری طور پر ایک آر ایچ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ دھماکے کی نوعیت اور ممکنہ محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔
مشیر صحت احتشام علی کا مفتی منیر شاکر کی شہادت پر اظہار افسوس
مشیر صحت احتشام علی نے مفتی منیر شاکر کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مفتی منیر شاکر کی شہادت کا سن کر دلی صدمہ پہنچا۔
مشیر صحت کے مطابق مفتی منیر شاکر کو ابتدائی علاج کے لیے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے۔
انہوں نے مفتی منیر شاکر کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا کی۔





