سانحہ جعفر ایکسپریس: شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد اور ملازمتوں کا اعلان

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے سانحہ جعفر ایکسپریس کے شہدا کے لواحقین کے لیے 52 لاکھ روپے مالی امداد اور متاثرہ بچوں کو ریلوے میں ملازمتیں دینے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد، چاہے وہ پاکستان میں چھپے ہوں یا افغانستان فرار ہو جائیں، انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

وزارتِ ریلوے کا قلمدان سنبھالنے کے بعد لاہور میں ریلوے ہیڈکوارٹرز میں اپنی پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ پاکستان کے خلاف بھارتی دشمنی کو واضح کرتا ہے، جس میں افغانستان کی بھی شمولیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی قیادت اب کسی دہشت گرد کو معاف نہیں کرے گی اور اس سانحے پر پوری قوم افسردہ ہے۔ تاہم، ایک مخصوص سیاسی جماعت نے وہی زبان استعمال کی جو بھارت نے کی، جو قابل مذمت ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ٹرین حادثے پر پاکستان تحریک انصاف اور بھارتی میڈیا ایک جیسے الزامات لگا رہے ہیں، جن میں فوج کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ دیگر سیاسی رہنماؤں کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔ ان کا سوال تھا کہ کیا پی ٹی آئی کو فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے لیے کروڑوں روپے نہیں مل رہے؟

حنیف عباسی نے محکمہ ریلوے کی بہتری کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایل ون منصوبے کا آغاز اپنے فنڈز سے کیا جائے گا، بروقت ٹرینیں چلانے، صفائی اور شفافیت کو یقینی بنانے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے پولیس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی، بلکہ ان کی معاونت کی جائے گی، اور ریلوے پولیس کے سکیلز کو پنجاب پولیس کے برابر کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جعفر ایکسپریس واقعہ کا مین سپانسپر بھارت ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن، اسٹیشنز پر سیکیورٹی کیمرے نصب کرنے اور کارگو سروس کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے مسافر ٹرینوں سے ریونیو بڑھا ہے، اسی طرح کارگو کو بھی سستا اور مؤثر بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بھی سانحہ جعفر ایکسپریس کی مذمت میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی تھی، جسے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کیا تھا۔ اس قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کے دستخط موجود تھے۔

قرارداد میں جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے، شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی شدید مذمت کی گئی۔ اس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کسی بھی گروہ یا فرد کو ملک کے امن، خودمختاری اور خوشحالی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

Scroll to Top