پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ملکی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے فروری 2025 میں بجلی کی کم ترین پیداوار کا نیا ریکارڈ بنایا ہے، جو کہ فروری 2020 میں کرونا وائرس کے بعد سب سے کم ہے۔
مزمل اسلم کے مطابق پاکستان کے بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (LSM) سیکٹر میں جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ میں 1.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جب کہ جنوری کے مہینے میں بھی 1.2 فیصد منفی نمو دیکھی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کیپٹیو یونٹس پر گیس کے نئے ٹیرف کے باعث آئندہ مہینوں میں مزید کمی متوقع ہے۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ مسترد شدہ اعدادوشمار طلب میں کمی، قوت خرید میں کمی اور برآمدات کے مسابقتی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معیشت بند ہونے کے قریب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کا ضم اضلاع کے فنڈز پر وفاق سے شکوہ
انہوں نے کہا کہ حکومت مالی سال 2024-25 میں 3.1 فیصد ترقی کی پیش گوئی کر رہی ہے، تاہم بڑے مینوفیکچرنگ اور زراعت کے شعبے کی منفی کارکردگی کے باعث ایک فیصد شرح نمو حاصل کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔





