غیر قانونی مقیم افراد کے لیے ڈیڈ لائن میں صرف 15 دن باقی

حکومت پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں اور افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کے لیے 31 مارچ تک ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔

اس فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے صرف 15 دن باقی رہ گئے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد ان افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں گرفتاریوں اور دیگر قانونی اقدامات شامل ہوں گے۔

پاکستانی حکومت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ انخلا کے دوران کسی بھی شخص کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جائے گی اور انہیں اپنے وطن واپس جانے کے لیے خوراک، پناہ اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس ڈیڈ لائن کے اندر اپنے وطن واپس لوٹیں تاکہ کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو۔

حکومت کے ذرائع کے مطابق 31 مارچ کے بعد کسی بھی افغان شہری کے خلاف سخت قانونی اقدامات شروع کیے جائیں گے۔ ان اقدامات میں گرفتاریوں، ملک بدری اور دیگر قانونی کارروائیاں شامل ہیں۔ متعلقہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیڈلائن کے بعد افغان شہریوں نے پاکستان چھوڑنے کی کوشش نہ کی، تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں پاک افغان طورخم بارڈر پر جرگہ کی دوسری نشست آج افغانستان میں ہوگی

حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور قومی سلامتی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد، پاکستانی حکام کی جانب سے مختلف علاقوں میں ان غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، اور ان کے انخلا کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انخلا کے دوران افغان شہریوں کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی نہ کی جائے اور انہیں انسانی حقوق کے تمام ضوابط کے تحت واپس بھیجا جائے گا۔ حکومت نے مزید کہا کہ وہ اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ بھی تعاون کر رہی ہے۔

Scroll to Top