پشاور میں کاروباری حالات ابتر، سرمایہ دار اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں، فضل مقیم خان

پشاور: سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر فضل مقیم خان نے پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کاروباری حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ دہشت گردی اور حکومتی عدم توجہی ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ دار اپنا سرمایہ یہاں سے نکال رہے ہیں، اور بینک آف خیبر بھی سرمایہ کاروں کو قرضے دینے سے انکاری ہے، کیونکہ وہ اسے “ریڈ زون” قرار دیتا ہے۔

خیبر پختونخوا کی انڈسٹری کا انحصار افغانستان پر ہے، طورخم کی بندش سے کروڑوں کا نقصان ہوا، فضل مقیم خان

فضل مقیم خاننے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اگر صنعتیں لگائی جائیں تو ان کا دارومدار افغانستان کے ساتھ تجارت پر ہوگا، کیونکہ پشاور سمندر سے دور ہے، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق اگر افغانستان کے راستے اپنی مصنوعات برآمد کی جائیں تو یہ ایک مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ طورخم بارڈر پر چھ ہزار گاڑیاں کئی روز سے کھڑی رہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ ان کے مطابق جب تک خیبر پختونخوا حکومت سرمایہ کاروں کو اعتماد میں نہیں لے گی، تب تک صوبے میں کاروباری ترقی ممکن نہیں۔ اس وقت انڈسٹری تیزی سے خیبر پختونخوا سے باہر منتقل ہو رہی ہے۔

افغان باشندوں کی بے دخلی سے معیشت کو نقصان ہوگا، فضل مقیم خان

فضل مقیم خاننے افغان باشندوں کی بے دخلی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ افغان کاروباری افراد کے لیے کم از کم دس سالہ ویزہ یا شہریت کے حوالے سے کوئی پالیسی بناتی، تاکہ وہ پاکستان میں بہتر طریقے سے کاروبار کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ جب افغان شہری پاکستان میں کاروبار کر رہے تھے، تو صرف قالین کی برآمدات 1.5 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں۔ دوسری جانب ترکی نے افغان کاروباری افراد کو شہریت اور مواقع فراہم کیے، جس کے نتیجے میں وہاں “کارپٹ نگر” قائم ہو چکا ہے۔

حکومت اور انتظامیہ نے پلاسٹک انڈسٹری کو پشاور سے انخلا پر مجبور کیا، فضل مقیم خان

 

فضل مقیم خانکے مطابق، پشاور میں تین سے چار سو پلاسٹک فیکٹریاں تھیں، لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے ماحولیاتی اور دیگر وجوہات کی بنا پر ان کاروباری اداروں کو اتنا تنگ کیا کہ وہ راولپنڈی منتقل ہو گئے۔ اب وہ کاروباری افراد کہتے ہیں کہ انہیں دس سال پہلے خیبر پختونخوا سے نکل جانا چاہیے تھا۔
حکومت کاروباری طبقے کو بھاگنے پر مجبور کر رہی ہے، صدر سرحد چیمبر آف کامرس
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں انڈسٹری نہیں پنپ رہی۔ حکومتی ادارے کاروباری طبقے کو اتنا تنگ کر رہے ہیں کہ وہ یا تو صوبہ چھوڑ دیتے ہیں یا ملک ہی سے نقل مکانی کر جاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں خواتین کا کاروبار میں رحجان بڑھ رہا ہے، فضل مقیم خان

فضل مقیم خاننے کہا کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کی بڑی تعداد کاروبار کر رہی ہے اور اس رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے، جو خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی خواتین کے حوالے سے جو منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، وہ بے بنیاد ہے، کیونکہ یہاں کی خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں۔

Scroll to Top