تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے پارٹی کی داخلی سیاست اور فیصلوں پر شدید تنقید کی۔ تحریک انصاف ایک سال سے اپنے اندر ہی تقسیم کا شکار ہے اور اس وقت تحریک انصاف بمقابلہ تحریک انصاف جاری ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف اپنے اہداف سے ہٹ چکی ہے، اور اگر ان کے ڈسپلن کے مسئلے پر سوالات اٹھتے ہیں تو کیا باقی افراد بھی اسی صورتحال میں ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ دیگر وکلا کو کیوں فارغ کیا گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کی شناخت وکالت ہے اور عمران خان کو وکلا کے بارے میں غلط گائیڈ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنے خلاف پارٹی سے نکالے جانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف آج تک گالم گلوچ جاری ہے، اب میں بھی گالم گلوچ اور سازشیوں سے دو دو ہاتھ کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی اتحاد بنانے سے پہلے پارٹی کے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا کیونکہ یک طرفہ طور پر لوگوں کو نکالنا مناسب نہیں۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ اگر ان کے ڈسپلن کا مسئلہ تھا تو فیصل چودھری اور بابر اعوان کے بارے میں کیا کہیں گے؟ انہوں نے وکلا ٹیم کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں وکلا کے درمیان لڑائیاں بڑھیں گی، اور اگر وکلا کروڑوں کی فیسیں بھی دے دیں، لیکن وہ پارٹی کے بانی کو رہا نہیں کروا سکے، تو یہ ایک ناکامی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 26ویں ترمیم کے دوران لوگ بکے تھے اور یہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کے 10 سے 50 لوگ پارٹی چھوڑ دیں، کیونکہ کسی کے ماتھے پر یہ نہیں لکھا ہوتا کہ وہ کب پارٹی سے نکلے گا۔
یہ بھی پڑھیں میرا کسی پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ،عمران خان بلائینگے تو ملنے جائونگا ، شیر افضل مروت
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کے بندے توڑنے کی کوشش کر رہی ہے، اور ہمیں اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اتحاد کی ضرورت ہے۔





