وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مہنگائی میں کمی کا فائدہ عام آدمی کو نہ پہنچنے کا اعتراف

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کے باوجود اس کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر میں کمی ہورہی ہے لیکن اگر عام شہری کو پالیسیوں کا فائدہ نہیں ہو رہا تو پھر ان کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر دالوں، چینی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لے رہی ہے، آنے والے چند ماہ میں وزیراعظم توانائی کے شعبے میں مزید ریلیف کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے گندم اور چینی کی درآمد اوربرآمد سے جڑے سکینڈلز پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے مؤقف سے متفق ہیں کہ گندم کی قیمت ڈی ریگولیٹ رہنی چاہیے، وزیر خزانہ نے آبادی میں اضافے کو مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

ماحولیاتی مسائل پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ لاہور میں اکتوبر سے فروری تک سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے، اور یہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔

وزیر خزانہ نے ایف بی آر میں بدعنوانی کا بھی اعتراف کیا، ان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا، ’’اگر ہم رشوت لے رہے ہیں، تو کوئی ہمیں دے بھی رہا ہے، ایف بی آر کے کئی اہلکاروں کو بدعنوانی کی بنیاد پر برطرف کیا گیا ہے اور اب نئے دیانتدار افراد کو شامل کیا جا رہا ہے، انہوں نے صنعت کاروں سے اپیل کی کہ وہ رشوت دینا بند کریں ان کا کہنا تھا۔

Scroll to Top