وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ایران خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہے تو پاکستان اس کا خیرمقدم کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو بندر عباس کی بندرگاہ پر دھماکے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے واضح طور پر مؤقف اپنایا کہ پاکستان کا پہلگام حملے سے کوئی تعلق نہیں اور پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے حقوق اور سلامتی کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کیا۔
واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ پہلے ہی پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ تہران مشکل وقت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان افہام و تفہیم کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے اور دونوں ممالک کو موجودہ کشیدہ صورتحال میں تحمل سے کام لینا چاہیے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی جانب سے بھی پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ رابطہ کر کے کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت کا یہ پیغام خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





