پہلگام واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش، مودی کا اعلان اسلام اور مسلمانوں کیخلاف دشمنی کی عکاسی کرتا ہے

پہلگام واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش، مودی کا اعلان اسلام اور مسلمانوں کیخلاف دشمنی کی عکاسی کرتا ہے

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نےکہا ہے کہ پہلگام واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا ایک بے بنیاد الزام ہے، جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے

تفصیلات کے مطابق جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں منعقدہ قومی فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا حالیہ اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مودی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، جو کہ ایک جنگی مجرم ہے اور عورتوں و بچوں کا قتل عام کر رہا ہے۔

مولانا نے مزید کہا کہ پہلگام واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا ایک بے بنیاد الزام ہے، جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ “مودی پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا رہا ہے، جبکہ بھارت کی پاکستان کے خلاف بزدلانہ حملوں کی ایک طویل تاریخ ہے”، مولانا نے کہا۔ انہوں نے 1965 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر بھارت نے مزید قدم بڑھایا تو پاکستان کو اس سے بھی بڑا نقصان پہنچے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے فلسطین کی آزادی کے لیے پاکستان کی حمایت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کا وجود فلسطین کی حمایت سے شروع ہوا تھا”۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے عوام ان کے ساتھ ہیں اور عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کے خلاف فیصلہ دے کر اسے گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دینی مدارس کے حوالے سے قوانین پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے اور کہا کہ فلسطین کی آزادی اور مدارس کی حفاظت کی جنگ ایک ہی ہے۔ “ہم دینی مدارس کی بقاء اور حفاظت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہامولانا نے فلسطین کی آزادی کے لیے پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ صرف فلسطینیوں کی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی ہے اور پاکستان کو اس میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

Scroll to Top