وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت کی ناکام سفارتکاری مودی حکومت کو شدید دباؤ اور فرسٹریشن میں مبتلا کر چکی ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں اور بھارت اس واقعے کی شفاف تحقیقات سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے 2019 میں بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا تھا، دو بھارتی طیارے گرائے گئے اور گرفتار پائلٹ کو چائے پلا کر واپس بھیجا گیا.
یہ پاکستان کے اعلیٰ ظرف اور امن پسندی کا ثبوت ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے دوبارہ کوئی مہم جوئی کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلگام واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے اور مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے بھی کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے اور پاکستانی مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پوری قوم متحد ہے اور دشمن کو واضح پیغام دینا ہے کہ ہم ایک ہیں، انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر سے بھی پہلگام واقعے پر سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ عالمی برادری بھارت سے شواہد مانگ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کا روسی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال اور بھارتی اقدامات پر تبادلہ خیال
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2019 میں جب بحران پیدا ہوا تو شہباز شریف فوری طور پر فرنٹ لائن پر نظر آئے جبکہ بانی پی ٹی آئی کہیں دکھائی نہیں دیے، انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے فلسطین کے مسئلے پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی شرکت سے گریز کیا۔
پاک بھارت کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔





