انسدادِ دہشتگردی عدالت نے نومئی واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں عمر ایوب، فواد چوہدری، اسد عمر اور اعظم سواتی کی عبوری ضمانتوں میں 16 جون تک توسیع کر دی ۔
تفصیلات کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے دفتر اور کلمہ چوک پر کنٹینر جلانے سمیت نومئی کے چھ مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، فواد چوہدری، اسد عمر اور اعظم سواتی سمیت دیگر کی ضمانتوں میں توسیع کا فیصلہ سنایا۔
دورانِ سماعت فواد چوہدری، علی امتیاز، کرامت کھوکھر سمیت متعدد رہنما عدالت میں پیش ہوئے اور حاضری مکمل کروائی، جبکہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان عدالت میں پیش نہ ہو سکیں۔ ان کے وکیل نے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست جمع کروائی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
عمر ایوب کی غیر حاضری پر ان کے وکیل نے بتایا کہ وہ ہسپتال میں داخل ہیں، اس لیے پیش نہیں ہو سکتے، جس پر عدالت نے ان کی بھی ایک روزہ حاضری معافی منظور کر لی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے آئندہ سماعت پر تمام وکلاء کو عبوری ضمانتوں پر حتمی دلائل کے لیے طلب کر لیا ہے۔ اس موقع پر جے آئی ٹی کے تفتیشی افسران نے رپورٹ پیش کی جس میں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور دیگر ملزمان کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔
مزید برآں، جمشید اقبال چیمہ، مسرت جمشید چیمہ، حافظ فرحت عباس، بلال اعجاز، حسن نواز، علی امتیاز وڑائچ، محمد احمد چٹھہ اور محمد اشرف سوہنا سمیت متعدد افراد کی عبوری ضمانت کی درخواستیں بھی زیرِ سماعت ہیں۔
عدالت نے اسد عمر کی جناح ہاؤس، عسکری ٹاور حملہ اور تھانہ شادمان کو جلانے کے مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے ان کے پرانے ضمانتی مچلکے بحال رکھے ہیں۔
اسی طرح، پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی جناح ہاؤس سمیت چار جلاؤ گھیراؤ مقدمات میں عبوری ضمانت بھی 16 جون تک توسیع دی گئی ہے۔





