پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جعلی اور غیرقانونی سمز کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن جاری ہے, اب تک ایک لاکھ 63 ہزار 200 غیر قانونی سمز بلاک کی جا چکی ہیں۔
سرکاری دستاویز کے مطابق 64 لاکھ 30 ہزار غیر فعال سمز کو مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے جب کہ فوت شدگان کے شناختی کارڈز پر رجسٹرڈ 29 لاکھ 89 ہزار 925 سمز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
نئے اضلاع میں غیر متعلقہ خواتین کے نام پر رجسٹرڈ 1 لاکھ 71 ہزار سمز بھی بلاک کر دی گئی ہیں, منسوخ شدہ شناختی کارڈز پر 69 ہزار 246 سمز بند کی گئی ہیں، اسی طرح زائد المیعاد شناختی کارڈز پر رجسٹرڈ 7 لاکھ 83 ہزار سمز بھی بلاک کی گئیں۔
پی ٹی اے کے مطابق جعلی سمز کے خلاف نگرانی اور کارروائی مزید سخت کر دی گئی ہے ملک بھر میں 62 چھاپے مارے گئے جن کے دوران قانونی خلاف ورزی میں ملوث 72 افراد کو گرفتار کیا گیا، چھاپوں کے دوران 193 غیر قانونی بائیومیٹرک ڈیوائسز اور 11 ہزار 470 سمز برآمد کی گئیں۔
اس کے علاوہ جعلی بائیومیٹرک ڈیٹا کے 2 لاکھ 96 ہزار سے زائد ڈیجیٹل فنگر پرنٹس بھی ضبط کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس آئی ایف سی کا دوسرا سال، آئی ٹی سیکٹر میں عالمی سرمایہ کاری اور ترقی کی نئی راہیں کھل گئیں
پی ٹی اے نے سیکیورٹی بڑھاتے ہوئے نیا ملٹی فنگر بائیومیٹرک ویریفکیشن سسٹم متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں 1 لاکھ 85 ہزار سے زائد لائیو فنگر ڈیوائسز نصب کی جا چکی ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق غیر مجاز ریٹیلرز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اب صرف مستند سروس سینٹرز کو سمز کی فروخت کی اجازت ہو گی۔





