ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی ممکنہ شہادت کی صورت میں جانشینی کے لیے تین علما کے نام تجویز کر دیے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فہرست خفیہ طور پر تیار کی گئی ہے اور اسے ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی اتھارٹی اسمبلی آف ایکسپرٹس کو فراہم کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے یہ ہدایت دی ہے کہ اگر انہیں شہید کر دیا جاتا ہے تو اسمبلی آف ایکسپرٹس ان تین ناموں میں سے کسی ایک کو ملک کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کرے۔
یہ غیر معمولی اقدام ایران کو درپیش سیکیورٹی خدشات خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں ممکنہ شدت کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ قیادت کی منتقلی فوری، منظم اور پُرامن طریقے سے عمل میں آئے۔
نیویارک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس فہرست میں آیت اللہ خامنہ ای کے 55 سالہ بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام شامل نہیں ہے۔
مجتبیٰ ایک بااثر عالم دین ہیں اور انہیں طویل عرصے سے اپنے والد کا ممکنہ جانشین تصور کیا جاتا رہا ہے, وہ پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جاتے ہیں تاہم آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں جانشینی کی فہرست سے باہر رکھتے ہوئے تین دیگر شخصیات کو منتخب کیا ہے جن کے نام تاحال ظاہر نہیں کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عام طور پر ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل کئی ماہ تک جاری رہتا ہے جس دوران علمائے دین مختلف امیدواروں پر تفصیلی غور کرتے ہیں تاہم جنگی یا ہنگامی حالات میں یہ عمل تیزی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملے کی تیاری؟ امریکا نے بی 2 اسٹیلتھ بمبار طیارے متحرک کر دیے
نیویارک ٹائمز نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ایران کی وزارت اطلاعات نے تمام حکومتی افسران کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر زیرِ زمین محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے جو خطے میں ممکنہ کشیدگی کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔





