خیبرپختونخوا میں وکلاء پر نیا ٹیکس، عدالتی حکم کے باوجود نفاذ توہین عدالت ہے، طارق افغان ایڈووکیٹ

پشاور: پشاور ہائیکورٹ کے وکیل اور ماہر قانون طارق افغان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں وکلاء پر لگایا گیا نیا ٹیکس نہ صرف توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے بلکہ حکومت کی عدم سنجیدگی کا بھی ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا لائسنس بغیر ٹیکس گوشواروں کے ممکن نہیں، اس کے باوجود وکلاء پر نیا سیلز ٹیکس لگانا غیر قانونی ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے طارق افغان نے مزید کہا کہ صرف وکلاء ہی ہڑتال نہیں کر رہے، بلکہ صوبے کے دیگر اہم ادارے بھی احتجاج پر مجبور ہیں، جن میں صحافی برادری، اساتذہ، ڈاکٹرز اور پی ایم ایس افسران شامل ہیں۔

حتیٰ کہ سیکرٹریٹ میں بیٹھے سرکاری ملازمین بھی احتجاج پر مجبور ہو چکے ہیں، لیکن الزام صرف وکلاء پر عائد کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء نے جب بھی ہڑتال کی ہے، وہ عوامی مفاد اور آئین کی بالادستی کے لیے کی ہے، نہ کہ ذاتی مفاد کے لیے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں تعلیم کے بجٹ میں 11 فیصد اضافہ، ڈی آئی خان میں گرلز کیڈٹ کالج کی تعمیر شامل

اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہو تو کوئی بھی طبقہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ ہو۔ بدقسمتی سے حکومت کی دلچسپی عوامی مسائل حل کرنے میں نہیں بلکہ انہیں بڑھانے میں ہے۔

طارق افغان کا کہنا تھا کہ عدلیہ، وکلاء، اور دیگر شعبے اگر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں تو یہ حکومت کے طرزِ حکمرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Scroll to Top