پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں نئی تنظیم سازی کیلئے گائیڈ لائنز جاری

پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس میں احتجاج کیلئے حکمت عملی اور مذاکرات پر زور

اسلام آباد(شیراز احمد شیرازی )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قیادت نے اسیر رہنماؤں کے خطوط پڑھ  کر سنائیں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس کا آغاز اسیر رہنماؤں کے خطوط پڑھ کر کیا گیا، جنہیں عامر ڈوگر نے پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھا۔

سلمان اکرم راجہ نے بانی کی بہنوں کے حق میں گفتگو کی اور کہا کہ علیمہ خان اور ان کی بہنیں بھائی کی رہائی کے لیے جذباتی ہیں، جن کے جذبات کو سمجھا اور احترام کیا جانا چاہیے۔

نثار جٹ نے علی امین گنڈا پور اور پارٹی قیادت پر کڑی تنقید کی، خاص طور پر اس بات پر کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کی گئی۔ نثار جٹ نے کہا کہ بجٹ پاس کرنے سے قبل بانی سے ملاقات کا انتظار کیا جانا چاہیے تھا، علیمہ خان اور پارٹی ارکان کے بیانات سے پارٹی میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

علی محمد خان نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو محدود کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ اسے صرف بانی کی رہائی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر لوگ ایک دوسرے کو “غدار” کہہ کر خود تباہ کر رہے ہیں۔

علی محمد خان نے پنجاب کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے احتجاج میں سب نے کوشش کی لیکن پنجاب نکلے گا تو خان رہے گا، جس پر کچھ ارکان ناراض ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد آنے کی بجائے پورے ملک میں احتجاج کیا جائے اور بجٹ سے قبل علی امین گنڈاپور کو بانی سے ملاقات کرنی چاہیے تھی۔

علی محمد خان کا مذید کہنا تھاکہ ہر صورت مزاکرات ہونے چاہیے اور انکا راستہ بنائیں، علیمہ خان کی عزت ہے ان کو سیاسی عمل میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، بیرسٹر گوہر ہمارے بھائی ہیں آپ کو فیصلے کرنے ہونگے اور بانی سے ہر صورت مل کر مذاکرات کا کہیں، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت سے بات کیجئے اور بانی سے فوری رابطہ بحال کریں۔

زرتاج گل نے علی امین گنڈا پور کی بطور وزیراعلیٰ کردار کی تعریف کی ۔

انہوں نے کہاکہ بانی نے احتجاج کا کہا ہمیں سوچنا ہوگا، احتجاج کے لئے حکمت عملی بنانا ہو گی، ہر شخص کو اپنے ضلع اور تحصیل میں احتجاج کرے ، موجودہ پنجاب اور وفاقی حکومت مضبوط ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی جائے جس کے ناموں کی منظوری بانی پی ٹی آئی سےلی جائے، ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت ہماری پارٹی قیادت کو ناکام اور برا کہا جا رہا ہے۔

زرتاج گل نے کہاکہ ہمارے ممبران کو صرف نااہل نہیں کیا جا رہا بلکہ 10 10 سال کی سزائیں بھی ہیں، ایسے کیسز میں موجود ہیں جہاں 10د سال سزائیں ہوں گی لیکن ہمیں اب منظم اور مضبوط حکمت عملی بنانی ہوگی۔

شاہد خٹک نے جذباتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے فیصلے کہاں ہو رہے ہیں اور اگر پولیٹیکل کمیٹی نے بجٹ پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو سلمان اکرم راجہ کا ٹویٹ کیوں آیا؟

انہوں نے خیبر پختونخوا کے ارکان کو ورکرز کی طرف سے “غدار” کہنے پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ قیادت ایسے ڈرامے بند کرے، احتجاج کی واضح حکمت عملی ہونی چاہیے۔

شاہد خٹک نے کہا کہ وہ کسی کی غلامی میں نہیں اور 2008 سے پارٹی کے ساتھ ہیں، مگر اپنوں کو “غدار” کہنا قابل قبول نہیں۔

آخر میں علی محمد خان اور زرتاج گل نے حکومت سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

Scroll to Top