شہباز شریف کی زیر قیادت وفاقی حکومت کے قرضوں میں سوا ایک سال کے دوران خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ مارچ 2024 سے مئی 2025 کے درمیان 11 ہزار 235 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے ماہرین معیشت اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
نجی ٹی وی چینل(ہم نیوز) کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ تازہ ترین دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ فروری 2024 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ 42 ہزار 675 ارب روپے تھا، جو مئی 2025 تک بڑھ کر 53 ہزار 460 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق صرف مقامی قرضوں میں 10 ہزار 784 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جب کہ اسی عرصے کے دوران بیرونی قرض میں بھی تقریباً 451 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مجموعی طور پر وفاقی حکومت کا کل قرضہ مئی 2025 تک 76 ہزار 45 ارب روپے کی حد عبور کر چکا ہے، جو ملکی معیشت پر بھاری بوجھ تصور کیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قرضوں میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو پاکستان کی مالی خودمختاری مزید کمزور ہو جائے گی، جس کے اثرات مہنگائی، شرح سود اور مالیاتی خسارے پر بھی پڑیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ، حکومت پر آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط مزید سخت ہو سکتی ہیں۔





