غزہ: فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی سے متعلق امریکی حمایت یافتہ مجوزہ معاہدے پر اپنا باضابطہ جواب ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک قطر اور مصر کو دے دیا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے تازہ ترین تجاویز پر غور کے بعد جواب مرتب کیا، جسے ثالثوں کے ذریعے مذاکراتی عمل میں شامل کیا گیا ہے۔ فلسطینی حکام نے جواب کی تصدیق تو کی، تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔
تازہ ترین جنگ بندی منصوبہ قطر، مصر اور امریکا کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جس میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلاء، قیدیوں کے تبادلے اور دیگر انسانی اقدامات سے متعلق نکات شامل ہیں۔
حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب جنگ بندی کا فیصلہ اسرائیل پر منحصر ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ وہ قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں جنگ کے مکمل خاتمے پر سنجیدہ ہے، اور ثالثوں کے ذریعے امن کی راہ تلاش کی جا رہی ہے۔





