اسلام آباد: سینئر صحافی عبداللہ مومند نے سیاسی جماعتوں خصوصاً پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ احتساب کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی خود احتساب سے بچ نہ سکی۔
انہوں نے القادر ٹرسٹ کیس، توشہ خانہ، ملک ریاض ڈیل، فرح گوگی اسکینڈلز اور بشریٰ بی بی کے ذریعے پوسٹنگز و ٹرانسفرز کو کھیل بے نقاب رہنے والے عمل قرار دیا۔
مومند نے مزید کہا کہ سینیٹ انتخابات میں بھی میرٹ کا تقاضا نظر انداز کیا گیا، جہاں عرفان سلیم کی جگہ مرزا آ فریدی کو ترجیح دی گئی۔ ان کے مطابق2011 کے بعد پی ٹی آئی کے نظریات اور عمل میں واضح فرق آیا۔
احتساب کا نعرہ لگانے والے خود… روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے۔مومند نے اس کے بعد سیلابی بحران پر بھی تبصرہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب کے لیے کوئی جامع فریم ورک موجود نہیں، اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور میرٹ کے بجائے کی جانے والی سیاسی بھرتیاں اس حوالے سے مول بن چکی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صوبائی حکومتوں اور این ڈی ایم اے میں وہ صلاحیت موجود نہیں جو سیلاب سے نمٹنے کے لیے درکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی اندرونی اختلافات اور بیانات، عمران خان کا بڑا حکم
ایک اور معاملے میں مومند نے بلوچستان کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا علم متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو تھا، مگر وہ خاموشی اختیار کیے رہےابھی سنجیدہ تحقیقات ہوتی ہیں تو صرف ملزمان کو پکڑنا کافی نہیں ہوگا۔ متعلقہ ڈی سی اور ڈی پی او کے کردار کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔





