پی ٹی آئی اندرونی خلفشار کا شکار، سینیٹ فیصلے بیانیے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کاشف الدین سید

پشاور: سینئر صحافی اور پختون ڈیجیٹل کے بیورو چیف کاشف الدین سید نے پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی، اندرونی اختلافات اور سینیٹ انتخابات میں کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کا بیانیہ اب شدید دباؤ کا شکار ہے، اور کارکنان قیادت پر اعتماد کھوتے جا رہے ہیں۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے فیصلے قابلِ تنقید ہو سکتے ہیں، لیکن کارکنان کو پارٹی ڈسپلن کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ عرفان سلیم کی مزاحمت نے پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کو ایک نئی سمت دی، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہوا کہ پی ٹی آئی میں یکجہتی کی شدید کمی ہے۔

سینیٹ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کاشف الدین نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں یہ پہلا موقع تھا جب حکومت کو اپنے ہی ووٹ بچانے کا خوف لاحق ہوا۔

حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر نظر آئیں، جبکہ پی ٹی آئی شدید اندرونی اختلافات کا شکار رہی۔ اس کے باوجود وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے مضبوط قیادت کا تاثر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب انجنیئر امیر مقام کے بیٹے نیاز احمد کی سینیٹ میں کامیابی پر ن لیگ کی جانب سے علی امین گنڈاپور کا شکریہ ادا کیا گیا، تو پی ٹی آئی کے بیانیے کی ساکھ مزید کمزور ہو گئی۔ ایسے سیاسی ملاپ پارٹی کے نظریاتی کارکنان کے لیے سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : احتساب کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی خود کرپشن کے دلدل میں دھنس گئی ،عبداللہ مومند

کاشف الدین نے مراد سعید کو سینیٹر منتخب کرنے کے فیصلے کو بھی غیر دانشمندانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مفرور شخص جسے حلف اٹھانے کی اجازت نہیں، اسے سینیٹر منتخب کرنا آئینی اور سیاسی لحاظ سے غیر مؤثر قدم تھا۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں کبھی ایسی بند گلی میں نہیں جانا چاہیے جہاں واپسی ممکن نہ ہو، لیکن پی ٹی آئی قیادت نے بار بار یوٹرن لے کر اپنے بیانیے کو کمزور کیا ہے۔

Scroll to Top