عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سینیٹر ایمل ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے طالبان کی دوبارہ آبادکاری اور قیدیوں کی رہائی سے متعلق اعتراف کو اپنے درینہ مؤقف کی تائید قرار دے دیا ہے۔
ایمل ولی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ صرف اعتراف تک محدود نہ رہیں بلکہ طالبان سے کیے گئے خفیہ معاہدے کو بھی منظرِ عام پر لائیں۔
صدر اےاین پی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ جنرل باجوہ، جنرل فیض اور بیرسٹر سیف کی موجودگی میں ہوا جس پر بانی پی ٹی آئی اور عارف علوی کے دستخط بھی موجود ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت 40 ہزار سرکاری مہمان لائے گئے اور جیلوں سے 102 قیدی رہا کیے گئے۔
ایمل ولی نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست معاہدے سے مُکر گئی یا وہی ریاستی مہمان؟ قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ طالبان کو دوبارہ آباد کرنے والے عناصر درحقیقت دہشتگردوں کے سہولت کار ہیں، ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کا تقاضا ہے کہ ان سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:صوبے میں نئے آپریشنز کسی صورت قبول نہیں، گڈ طالبان کو ختم کرنا ہوگا ، علی امین گنڈاپور
انہوں نے مزید کہا سالوں سے میں آواز بلند کرتا رہا، عدالتوں تک گیا، لیکن میری بات کو دبایا گیا، آج وہی جماعت جس کے کارکن مجھے گالیاں دیتے تھے انہی کے وزیرِاعلیٰ میرے مؤقف کی تصدیق کر رہے ہیں۔
ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کو انہی قوتوں نے برباد کیا جو طالبان کی آبادکاری میں ملوث رہیں، آج کا دن حق اور سچ کے سامنے آنے کا دن ہے اور اب مزید خاموشی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہو گی۔





