چھ طیارے گنوانے کے بعد بھی بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار، امریکا کو بھی نظر انداز کر دیا

چھ طیارے گنوانے کے بعد بھی بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار، امریکا کو بھی نظر انداز کر دیا

بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے ایک بار پھر پاکستان سے متعلق بھارت کے روایتی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کسی تیسرے فریق کی ثالثی کو تسلیم نہیں کرتا۔

انہوں نے آپریشن سندور کے دوران امریکا سمیت دیگر ممالک کی جانب سے کی گئی رابطہ کاری کا بھی اعتراف کیا۔

اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی ایسا امریکی صدر نہیں دیکھا جو خارجہ پالیسی کو عوامی انداز میں چلاتا ہو۔

اس تنقید کا ہدف بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے جو پاک بھارت تنازع میں ثالثی کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔

جے شنکر نے تسلیم کیا کہ آپریشن سندور کے دوران امریکا سمیت مختلف ممالک کی جانب سے فون کالز کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی خفیہ بات نہیں بلکہ ایک معمول کا سفارتی عمل تھا اور ان میں سے اکثر کالز ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی موجود ہیں۔

یاد رہے بھارت نے کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف مبینہ طور پر میزائل حملے کیے تھے جس پر پاکستان نے مؤثر جواب دیتے ہوئے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے، اس کے دفاعی نظام اور ایئر بیسز کو بھی نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی پالیسی نے نہ صرف پاک بھارت بلکہ عالمی امن میں بھی اہم کردار ادا کیا، وائٹ ہاؤس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کو کم کرانے میں کردار ادا کیا لیکن مودی حکومت اس پر مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے جس پر انہیں اندرون ملک تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

جے شنکر نے اپنے خطاب کے دوران ایک بار پھر کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی بیرونی ثالثی کو قبول نہیں کرے گا چاہے وہ امریکا ہی کیوں نہ ہو۔

Scroll to Top