اسلام آباد ہائیکورٹ نے 18 افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجنے کی حکومتی کارروائی روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے افغان شہریوں کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ سماعت تک ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے درخواست گزار افغان شہریوں کے پی او آر کارڈز منسوخ کر کے ملک بدری کا حکم دیا، تاہم ان کے وکیل کے مطابق یہ افراد مرحوم فضل الرحمان کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے 2008 میں قانونی تقاضے پورے کر کے پاکستانی شہریت کے لیے درخواست دی تھی۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہریت کی درخواست گزشتہ کئی برسوں سے زیر التوا ہے اور اس دوران ان افراد کے خلاف ملک بدری کی کارروائی نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ قانونی طور پر بھی غیر مناسب ہے۔
عدالت نے اس معاملے میں وزارت داخلہ، نادرا، ایف آئی اے اور پولیس کو فریق بناتے ہوئے 18 ستمبر تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب تک شہریت سے متعلق درخواست پر کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو جائے، تب تک ان شہریوں کے ساتھ قانونی عمل اور انسانی حقوق کو مدنظر رکھا جائے۔





