قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز اسرائیل نے قطری دارالحکومت دوحہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دفتر کو نشانہ بنایا، جس میں تنظیم کے سینئر رہنما خلیل الحیا کے بیٹے، معاون اور دیگر افراد سمیت پانچ افراد شہید ہو گئے۔ قطر نے اس حملے کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے اور اسرائیل کو اس کے نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔
اس کشیدہ صورتحال کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈیلو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے بعد فی بیرل 62.63 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ برینٹ (Brent) خام تیل کی قیمت بھی 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 66.39 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک پر پڑے گا۔
توانائی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔





