حکومت پاکستان کی ہدایت پر ملک بھر سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے انخلاء کا تیسرا مرحلہ بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کے دوران اب تک 30 ہزار سے زائد افغان مہاجرین اپنے وطن واپس روانہ ہو چکے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ مرحلہ یکم ستمبر کو شروع ہوا، جس میں نہ صرف غیر رجسٹرڈ بلکہ رجسٹرڈ افغان باشندوں کی وطن واپسی کا عمل بھی شامل ہے۔ ان میں سے 20 ہزار افراد نے رضاکارانہ طور پر وطن واپسی اختیار کی، جبکہ باقی مہاجرین کو قانونی کارروائی کے بعد واپس بھیجا گیا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع سے بھی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ حکام کے مطابق 33 سے زائد تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز جو افغان باشندوں کے زیرانتظام چل رہے تھے، ان کو بھی نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس فورس نے افغان باشندوں کے زیرقبضہ علاقوں کی نشاندہی مکمل کر لی ہے اور واپسی کے عمل کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق تمام غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جائے گا، اور کسی کو بھی غیر قانونی طور پر مقیم رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ افغان مہاجرین کے انخلاء کا پہلا اور دوسرا مرحلہ رواں سال کے آغاز میں مکمل کیا گیا تھا، جب کہ موجودہ تیسرا مرحلہ بقیہ غیر قانونی اور رضاکارانہ واپسی کے منتظر افراد پر مشتمل ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی، داخلی نظم و نسق اور مقامی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ناگزیر ہے۔





