توشہ خانہ اسکینڈل میں نیا موڑ! گواہوں کا اعترافی بیان سامنے آ گیا

توشہ خانہ اسکینڈل میں نیا موڑ! گواہوں کا اعترافی بیان سامنے آ گیا

توشہ خانہ ٹو کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں دو اہم گواہان کے بیانات منظر عام پر آ چکے ہیں، جن میں جیولری سیٹ کی اصل قیمت کم ظاہر کرنے کے سنگین انکشافات کیے گئے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل(24نیوز )کے مطابق بیانات دینے والوں میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرسنل سیکرٹری انعام اللہ شاہ اور پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی شامل ہیں۔ دونوں گواہان نے نیب اور عدالت کے روبرو اپنے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں، جن میں نہ صرف اعترافات شامل ہیں بلکہ باقاعدہ دستخط شدہ ریکارڈ بھی موجود ہے۔

جیولری سیٹ کی قیمت میں رد و بدل کا انکشاف بیان کے مطابق، صہیب عباسی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت کم لگائی، جو کہ دراصل سعودی ولی عہد کی جانب سے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور تحفہ دی گئی تھی۔ انعام اللہ شاہ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے صہیب عباسی پر دباؤ ڈالا کہ جیولری سیٹ کی قیمت 50 لاکھ روپے لگائی جائے، بصورتِ دیگر انہیں سرکاری اداروں سے بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دی گئی۔

صہیب عباسی نے بتایا کہ انہیں یہ ذمہ داری 25 مئی 2022 کو کابینہ ڈویژن کے سیکشن آفیسر کے ذریعے سونپی گئی تھی۔ بعد ازاں، 23 مئی 2024 کو نیب کے سامنے پیش ہو کر نہ صرف اعتراف کیا بلکہ چیئرمین نیب اور مجسٹریٹ کے سامنے معافی نامہ بھی جمع کرایا۔ انہوں نے تمام دستاویزی ثبوت نیب حکام کو خود فراہم کیے۔

انعام اللہ شاہ نے بیان دیا کہ انہوں نے 2019 سے 2021 تک بیک وقت پی ٹی آئی اور سرکاری ملازمت سے تنخواہیں لیں۔ ان کے مطابق، انہیں بشریٰ بی بی کی ناراضی کی وجہ سے برطرف کیا گیا، کیونکہ ان پر شک تھا کہ ان کے بھائی کے تعلقات جہانگیر ترین سے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ صہیب عباسی کو قیمت کم کرنے کی ہدایت انہوں نے خود دی تھی۔

 نیب حکام کے مطابق، بلغاری جیولری سیٹ کی اصل مالیت ساڑھے 7 کروڑ روپے تھی، لیکن اسے محض 59 لاکھ روپے میں ویلیوایٹ کروایا گیا، اور صرف 29 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے گئے۔ جیولری سیٹ میں نیکلس، بریسلیٹ، ایئررِنگز اور ایک انگوٹھی شامل تھی۔

نیب کا کہنا ہے کہ یہ قیمتی تحفہ نہ تو توشہ خانہ میں جمع کرایا گیا اور نہ ہی اس کی مکمل قیمت ادا کی گئی، بلکہ پرائیویٹ اپریزل کے ذریعے کم قیمت لگوا کر اسے ذاتی ملکیت میں رکھا گیا۔

Scroll to Top