گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وزیراعلیٰ پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے، ان کی حکومت بھی اسی طرح چلتی رہے گی۔
دیر لوئر کے علاقے تیمرگرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبے میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہیں اور روزانہ سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہو رہے ہیں مگر وزیراعلیٰ دعویٰ کر رہے ہیں کہ صوبے میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پارلیمنٹ میں آکر واضح کریں کہ وہ ریاست کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ۔
فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پورا صوبہ دہشت گردوں کے حوالے کر دیا ہے اور اب حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ وزیراعلیٰ کے اپنے ضلع میں بھی کوئی شہری محفوظ نہیں۔
گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ یہ وزیراعلیٰ کا مینڈیٹ نہیں کہ وہ افغانستان سے مذاکرات کریں یہ کام وفاقی حکومت کا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پہلے افغانستان جا کر چالیس ہزار دہشت گرد لے کر آئے اور اب دوبارہ وہاں جا کر مزید دہشت گرد لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں بڑھتی ہوئی کرپشن پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کرپشن عروج پر ہے لیکن متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایمل ولی کا گنڈاپور سے رابطہ! سیاست سے بڑھ کر جان کی حفاظت اہمیت کی حامل ہے،ترجمان وزیراعلیٰ
مزید برآں، فیصل کریم کنڈی نے انکشاف کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جلد ہی اختلافات ختم ہو جائیں گے اور دونوں جماعتیں مل کر ملک کی بہتری کے لیے کام کریں گی۔





