پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پارٹی اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر کسی حکومت کی حمایت نہیں کرے گی۔
صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر جاری بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ کل سے علی امین گنڈاپور کے لیے ان کی ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ جب انہیں سیکیورٹی کا مسئلہ درپیش آیا تھا تو علی امین ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جتنی تنقید انہوں نے علی امین پر کی، شاید کسی اور نے نہیں کی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا وہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا؟ کیا وہ کرپشن میں ملوث تھا؟ یا پھر وہ لوگ، جو دوسروں پر موروثیت کے الزامات لگاتے ہیں، خود موروثیت کا شکار ہو کر اپنے ہی ساتھی کو گھر بھیج رہے ہیں؟ یہ تمام سوالات قوم کے سامنے واضح ہونے چاہئیں۔
سینیٹ میں اپنی تقریر سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ان کی جدوجہد تین بنیادی نکات پر مبنی ہے ، آئین پر مکمل عمل درآمد، صوبوں کو ان کے حقوق کی فراہمی، اور ملک میں حقیقی امن کا قیام۔
انہوں نے کہا کہ اے این پی چار نسلوں سے آئین و قانون کی بالادستی کی بات کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط وفاق اسی وقت ممکن ہے جب تمام صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے جائیں، اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ ان کا حق ہے جس کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی امن پر مبنی ہونی چاہیے، تاکہ قوم کو حقیقی امن میسر آ سکے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ وزیراعظم نے انہیں امریکہ کے دورے پر بریفنگ دی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسی بریفنگ افراد کو نہیں بلکہ پارلیمان کو دی جانی چاہیے، کیونکہ اصل اہمیت پارلیمان کی ہے، نہ کہ کسی فرد کی۔
یہ بھی پڑھیں : این اے 1چترال کے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 23 اکتوبر کو ہوگی
انہوں نے مزید کہا کہ جس تصویر پر انہوں نے تنقید کی تھی، اس پر وزیراعظم نے وضاحت دی ہے کہ وہ کسی مائنز اینڈ منرلز کے معاہدے سے متعلق نہیں تھی بلکہ وہ تحفہ آرمی چیف نے اپنی ذاتی حیثیت میں خریدا اور صدر ٹرمپ کو دیا تھا۔
آخر میں ایمل ولی خان نے کہا کہ تحفے تحائف ریاستوں کے درمیان چلتے رہتے ہیں، تاہم اگر ان کی کسی بات سے کسی کو دکھ پہنچا ہو تو وہ معذرت کے لیے تیار ہیں۔





