پشاور : طورخم سرحدی گزرگاہ کی بندش کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت مکمل طور پر رک گئی ہے۔
اس بندش کے نتیجے میں سرحد کے دونوں جانب ہزاروں کارگو گاڑیاں پھنس گئی ہیں جو تجارتی سامان لے کر گزرگاہ عبور کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق پاکستان افغانستان کو تازہ پھل، سیمنٹ، کپڑا، ادویات، میڈیکل آلات اور اسپورٹس سامان برآمد کرتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان سے تازہ پھل، خشک پھل، کوئلہ اور معدنیات پاکستان درآمد کی جاتی ہیں۔
کسٹم حکام کے مطابق طورخم پر تجارتی گزرگاہ کی بندش کی وجہ سے پاکستان کی طرف دو ہزار سے زائد کارگو گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جن میں ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ کے لیے سامان لے جانے والی گاڑیاں شامل ہیں۔
اس صورتحال نے تجارتی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاک افغان تنازع میں ٹرمپ کا غیر متوقع بیان، سب کو حیران کر دیا
تجارتی گزرگاہ کی بندش سے نہ صرف تجارتی حجم متاثر ہوا ہے بلکہ اس سے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی راستہ جلد از جلد کھولنا ضروری ہے تاکہ تجارت کا عمل دوبارہ بحال کیا جا سکے۔





