پشاور : پاک افغان سرحد کی مسلسل سات روزہ بندش نے جہاں دو طرفہ تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے، وہیں اس کے سنگین اثرات انسانی بنیادوں پر بالخصوص صحت کے شعبے پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
سرحد پار سے روزانہ علاج کے لیے پشاور آنے والے سینکڑوں افغان مریضوں کی آمد رک جانے کے باعث شہر کے بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں کی او پی ڈیز غیر معمولی طور پر سنسان ہو چکی ہیں۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبر ٹیچنگ ہسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور دیگر بڑے طبی مراکز میں معمول کے مطابق روزانہ 1,000 سے زائد افغان مریض علاج کے لیے رجوع کرتے تھے۔
ان مریضوں میں بڑی تعداد دل، گردے، کینسر اور ہڈیوں کے امراض میں مبتلا افراد کی ہوتی تھی، جو پاکستان میں معیاری اور کم خرچ علاج کے باعث یہاں کا رخ کرتے تھے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اگرچہ او پی ڈی میں رش کم ہونے سے ایک وقتی سکون ضرور ہے، مگر افغان مریضوں کی عدم موجودگی سے آمدنی میں واضح کمی آئی ہے۔
اندازے کے مطابق کئی ہسپتالوں کی او پی ڈی میں 30 فیصد مریض افغان باشندے ہوتے تھے، جن کی عدم موجودگی نے نہ صرف مالیاتی خسارہ بڑھا دیا ہے بلکہ ہسپتالوں سے وابستہ دیگر کاروباروں کو بھی متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پہلا روزہ کب ہوگا؟ یواے ای کی فلکیاتی انجمن نے ممکنہ تاریخ بتا دی
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ افغان صوبوں ننگرہار، لغمان، کنڑ اور کابل سے تعلق رکھنے والے درجنوں مریض جلال آباد اور دیگر بارڈر ایریاز میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ادویات اور معالج نہ ہونے کے سبب کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہو چکی ہے، جب کہ بعض کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
افغانستان کے اندر اسپتال پہلے ہی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اب بارڈر کی بندش نے ان مریضوں کے لیے محدود وسائل تک رسائی کو مزید ناممکن بنا دیا ہے۔
کابل اور جلال آباد کے ہسپتالوں میں ادویات کی قلت اور طبی عملے کی کمی کی وجہ سے متعدد وارڈز میں مریض فرش پر لیٹے دکھائی دیتے ہیں۔
پشاور میں ہوٹل مالکان، میڈیکل اسٹورز، ایمبولینس سروسز اور دیگر طبی معاون کاروبار سے منسلک افراد نے بھی بارڈر بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغان مریضوں کی آمد بند ہونے سے ان کے روزگار پر براہِ راست اثر پڑا ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو معاشی مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔





