پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبائی و مرکزی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرول کے بڑھتے نرخوں نے پہلے ہی غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے، اب روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ انہیں مزید مشکلات میں دھکیل رہا ہے۔
صوبے میں گندم، آٹے، سبزیوں ، چینی اور روزمرہ اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ حکومتی نااہلی اور بدانتظامی نے خیبر پختونخوا کے عوام کو شدید معاشی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف بدامنی ہے تو دوسری جانب گندم اور آٹے کی قلت نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔سبزیوں اور پھلوں سے لے کر چینی اور دالوں تک ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گندم کی فراہمی میں رکاوٹ اور آٹے کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس کوئی معاشی پالیسی یا حکمت عملی موجود نہیں۔ فلور ملز کو گندم کی عدم فراہمی اور اوپن مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی کے باعث عوام کو مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں انتظامی نااہلی، بدامنی، کرپشن اور بدعنوانی عروج پر ہے، مگر حکمرانوں کی تمام تر توجہ جلسے جلوسوں تک محدود ہے۔ عام شہری بازاروں میں سبزی، پھل، چینی اور دالیں خریدنے سے قاصر ہیں کیونکہ قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔ آلو، پیاز، ٹماٹر اور دالوں جیسی بنیادی اشیاء بھی عام عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہیں۔
صوبائی صدر نے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فوری طور پر مہنگائی کے سدباب کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دے، گندم کے کوٹے میں اضافہ کرے، فلور ملز کو بلاتعطل سپلائی یقینی بنائے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے۔ ساتھ ہی سبزیوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کئے جائیں۔





