گزشتہ دنوں ایمیزون کی کلاؤڈ سروس ایمیزون ویب سروسز (AWS) میں اچانک تکنیکی خرابی کے باعث کئی گھنٹوں تک انٹرنیٹ سروسز بند رہیں، جس سے دنیا کے بیشتر ممالک میں ہزاروں ویب سائٹس اور ایپس متاثر ہوئیں۔
پاکستان سمیت مختلف علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور بندش کی شکایات موصول ہوئیں۔
اس خرابی کی وجہ ڈی این ایس (DNS) سسٹم میں مسئلہ بتایا گیا ہے، جو ویب ایڈریسز کو ڈیجیٹل آئی پی ایڈریسز میں تبدیل کرتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی سائبر حملہ نہیں بلکہ ایمیزون کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر میں تکنیکی خرابی تھی، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی ایک اہم ٹیلی فون ڈائریکٹری عارضی طور پر ناکارہ ہو گئی۔
اس خرابی نے بینکنگ سروسز، سوشل میڈیا، آن لائن شاپنگ اور ایئر لائنز کی بکنگ سسٹمز کو شدید متاثر کیا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چونکہ آج کل زیادہ تر ڈیجیٹل سروسز چند بڑی کلاؤڈ کمپنیوں پر منحصر ہیں، اس لیے کسی بھی چھوٹی خرابی کا اثر عالمی سطح پر لاکھوں صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کے اصل غیرمرکزی نظام کے برعکس، اس طرح کا انحصار سسٹم کو زیادہ نازک بنا دیتا ہے۔
اس واقعے نے انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو اجاگر کیا ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی خدمات کو مزید مستحکم اور محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور ایمازون میں اشتراک، پروجیکٹ کوئپر سے ڈیجیٹل ترقی کی نئی راہیں
پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون کے پروجیکٹ کوئپر نے 2026 کے اختتام تک سیٹلائٹ براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے ملک کے دور دراز اور ان علاقوں تک بھی انٹرنیٹ رسائی ممکن بنائی جائے گی جہاں روایتی انٹرنیٹ پہنچانا مشکل ہے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ اور پروجیکٹ کوئپر کے اعلیٰ سطحی وفد کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان میں جدید سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے آغاز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت آئی ٹی کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے ڈیجیٹل منظرنامے میں نمایاں تبدیلی لانے کا باعث بنے گا اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرے گا۔
پروجیکٹ کوئپر Low Earth Orbit (LEO) سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے تحت 3,236 سیٹلائٹس مدار میں تعینات کرے گا، جو 400 ایم بی پی ایس تک کی تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم کریں گے۔ ان سیٹلائٹس کے ذریعے سستے اور آسان ٹرمینلز کے ذریعے انٹرنیٹ صارفین تک پہنچایا جائے گا۔
وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں پروجیکٹ کوئپر کا آغاز ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دینے اور ملک کے کنیکٹیویٹی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔





