ریاض : سعودی عرب نے گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے آجر (ایمپلائر) کو بھرتی، اقامہ، ورک پرمٹ اور دیگر خدمات کے لیے کسی بھی قسم کی فیس ملازمین سے وصول کرنے سے سختی سے منع کر دیا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانے اور بھرتی پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
سعودی گزٹ کے مطابق وزارتِ افرادی قوت و سماجی بہبود کی جانب سے جاری کردہ نئے رہنما اصولوں میں کہا گیا ہے کہ آجر کسی بھی صورت میں گھریلو ملازمین سے بھرتی، پیشے کی تبدیلی، خدمات کی منتقلی، اقامہ، ورک پرمٹ یا دیگر قانونی معاملات سے متعلق فیس نہیں لے سکتا۔
نئے ضوابط کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں 20 ہزار سعودی ریال تک جرمانہ، تین سال تک ملازمین کی بھرتی پر پابندی، اور بعض صورتوں میں مستقل پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں سزائیں دوگنی کی جا سکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اصول وزارتِ افرادی قوت کی طرف سے تیار کردہ جامع گائیڈ بک میں شامل کیے گئے ہیں، جس کا مقصد گھریلو ملازمین کو باوقار زندگی اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کرنا ہے۔
گھریلو ملازمین کی تعریف کرتے ہوئے رہنما اصولوں میں کہا گیا ہے کہ وہ افراد جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر آجر کے لیے گھر کے اندرونی امور سرانجام دیتے ہیں، یا آجر کے کسی اہلکار کے متبادل کے طور پر کام کرتے ہیں، ان پر یہ قوانین لاگو ہوں گے۔
وزارت کے مطابق مجاز پیشوں میں گھریلو ملازم، پرائیویٹ ڈرائیور، نرس، باورچی، گھریلو منتظم، کسان، پرسنل اسسٹنٹ، معلم یا معلمہ، گارڈ، کافی بنانے والا اور فزیو تھراپسٹ شامل ہیں۔
ضوابط میں گھریلو ملازمین پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں جن میں خوش اخلاقی، آجر کی جائیداد کا تحفظ، گھر کے رازوں کو فاش نہ کرنا، اسلام کا احترام اور معاشرتی اقدار کی پاسداری شامل ہیں۔
کسی گھریلو ملازم کی جانب سے ضابطوں کی خلاف ورزی کی صورت میں 2000 ریال تک جرمانہ، سعودی عرب میں ملازمت پر پابندی یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ خلاف ورزی کی شدت کے مطابق جرمانوں میں اضافہ ہوگا، جبکہ واپسی کے اخراجات ملازم کو خود برداشت کرنے ہوں گے۔
نئے ضوابط کے مطابق ملازمین کو تنخواہ باقاعدگی سے دی جائے گی، جیسا کہ معاہدے میں طے کیا گیا ہو۔ انہیں اپنے پاسپورٹ اور اقامہ رکھنے کا پورا حق حاصل ہوگا، آجر ان دستاویزات کو اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکتا۔
دیگر حقوق میں ہفتہ وار آرام کا ایک دن، روزانہ کم از کم آٹھ گھنٹے کا متواتر آرام، دو سالہ معاہدے پر ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر چھٹی، ہر دو سال بعد وطن واپسی کا ٹکٹ (آجر کے خرچے پر)، سالانہ تیس دن تک کی بیماری کی چھٹی (طبی رپورٹ کے ساتھ) شامل ہیں۔ آجر کی ذمہ داری ہو گی کہ اقامہ کی تجدید اور قانونی فیس کی ادائیگی کرے، ملازم کو خاندان سے رابطے کی سہولت دے اور ماہانہ اجرت وقت پر ادا کرے۔
2008 میں ہیومن رائٹس واچ نے سعودی عرب پر زور دیا تھا کہ وہ کفالت نظام ختم کرے، جس کے تحت غیر ملکی ورکرز اپنے آجر (کفیل) سے قانونی طور پر منسلک ہوتے ہیں، جو اکثر ان کے پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔
2021 میں سعودی عرب نے کفالت نظام میں نرمی کی، جس کے بعد بعض غیر ملکی ملازمین کو آجر کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔
پاکستان بیورو آف امیگریشن کے مطابق 2020 سے ستمبر 2025 تک 20 لاکھ سے زائد پاکستانی، جن میں گھریلو شعبے کے ورکرز بھی شامل ہیں، سعودی عرب میں روزگار کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں۔





