افغانستان سے سرحدی تجارت کی بندش، یومیہ نقصان ایک ارب سے متجاوز

افغانستان سے سرحدی تجارت کی بندش، یومیہ نقصان ایک ارب سے متجاوز

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تجارت کی بندش سے دوطرفہ کاروبار شدید متاثر ہو گیا ہے، جس کے باعث کپاس، پیاز، ٹماٹر، انگور، خشک میوہ جات، کوئلہ اور دیگر سبزیوں کی درآمد بری طرح رک گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ سال پاکستان نے افغانستان سے 225 ملین ڈالر مالیت کی کپاس، 92 ملین ڈالر کے پیاز، 43 ملین ڈالر کے ٹماٹر، 51 ملین ڈالر کے انگور، 17 ملین ڈالر کے تازہ پھل، 7 ملین ڈالر کے خشک میوہ جات، 5 ملین ڈالر کے بیج، 14 ملین ڈالر کے کھیرے اور 54 ملین ڈالر مالیت کی دیگر سبزیاں درآمد کی تھیں۔

رواں سال یکم جنوری سے 11 اکتوبر تک افغانستان سے 2 لاکھ 26 ہزار 540 میٹرک ٹن ٹماٹر جبکہ ایران سے 25 ہزار 961 میٹرک ٹن ٹماٹر درآمد کیے گئے۔

چیئرمین بارڈر ٹریڈ کونسل کے مطابق سرحدی بندش کا سب سے زیادہ اثر ٹماٹر کی سپلائی اور قیمتوں پر پڑا ہے۔ ان کے مطابق 12 اکتوبر سے سرحد بند ہونے کے بعد یومیہ نقصان ایک ارب 60 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کے مطابق سرحدی تجارت کی بندش نہ صرف تاجروں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست عام صارفین تک پہنچ رہے ہیں، لہٰذا حکومت کو فوری طور پر پاک افغان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

Scroll to Top