عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کی روک تھام، گندم کی تقسیم اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوتی ہے، مگر احتجاج کے “چیمپین” صاحب اس میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنے “خان” سے اجازت نہیں ملی۔
ایکس پر جاری بیان میں ایمل ولی خان نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ کل جو ون آن ون ملاقات ہوئی، کیا اس کی اجازت بھی لی گئی تھی؟ بند کمروں میں فیصلے نہ کرنے کی بھونگیاں مارنے والے کو کل بند کمرے میں اپنی اصل حیثیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا۔
انہو ں نےمذید لکھا کہ یہ صوبہ اب بس ڈرامہ بازوں کے سپرد ہے،ایک جاتا ہے، دوسرا آ جاتا ہے، سٹیج وہی رہتا ہےاور ہم تماشائی بن کر انجوائے کرتے رہتے ہیں۔
اسلام آباد میں دہشت گردی کی روک تھام، گندم کی تقسیم اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوتی ہے، مگر احتجاج کے “چیمپین” صاحب اس میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنے “خان” سے اجازت نہیں ملی۔ سوال یہ ہے کہ کل جو ون آن ون ملاقات ہوئی، کیا اس کی اجازت بھی لی…
— Aimal Wali Khan (@AimalWali) October 27, 2025
واضح رہے کہ جمعہ کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری کے درمیان اہم ون آن ون ملاقات ہوئی ہے جس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقات وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ہوئی جس میں صوبے میں سیکیورٹی انتظامات، انسداد دہشت گردی کے اقدامات اور قبائلی اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ صوبے میں قیامِ امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق کور کمانڈر پشاور نے صوبائی حکومت کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا اور وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط کوششوں پر زور دیا۔
ملاقات کے اگلے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایپکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں امن و امان کی صورتحال کا مزید جائزہ لیا گیا اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کور کمانڈر سے ملاقات کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
صارفین کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ اہم ملاقات عمران خان کی منظوری سے ہوئی یا وزیراعلیٰ نے خود سے یہ فیصلہ کیا۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے یاد دلایا کہ سہیل آفریدی چند روز قبل تک صوبائی کابینہ کی تشکیل کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط قرار دے رہے تھے، مگر اب بغیر اجازت ملاقات کر کےوہ اپنے ہی مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
صارفین کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی اپنے قائد عمران خان کی طرح یو ٹرن لینے میں مہارت رکھتے ہیں۔





