پشاور بورڈ کا میٹرک کے سالانہ امتحانات کے شیڈول کا اعلان

پشاور بورڈ میں اختیارات کی کشمکش، امتحانات کی نگرانی کمپیوٹر آپریٹر کے حوالے

سلمان یوسفزئی 

پشاور تعلیمی بورڈ میں اعلی حکام کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی ہے۔

امتحانات کی نگرانی اور امتحانی عملے کی تعیناتی کے اختیارات سیکریٹری بورڈ سے واپس لے لیے گئے ہیں جس کے بعد بورڈ میں انتظامی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق امتحانی ڈیوٹیوں کی تقرری اور امتحانات کے دوران انسپیکشن کے اختیارات اب کمپیوٹر آپریٹر بورڈ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد امتحانات سے متعلق تمام انتظامی و نگرانی امور ایک ہی عہدیدار کے ماتحت آ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں امتحانات کے دوران عملے کی نگرانی اور کارکردگی کی رپورٹنگ سیکریٹری بورڈ کی ذمہ داری تھی تاہم حالیہ فیصلے نے اس نظام میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔

بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام اختیارات ایک ہی افسر کو دینے سے شفافیت اور نگرانی کا عمل مشکوک ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق امتحانات میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے مختلف سطحوں پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام ضروری ہوتا ہے مگر اب ایک ہی فرد کو تمام اختیارات دینے سے جانبداری اور بدانتظامی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بورڈ عملے نے غیر متعلقہ افسر کو امتحانات سے متعلق مکمل اختیارات دینے کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف انتظامی اصولوں کے منافی ہے بلکہ امتحانات کے معیار اور شفافیت پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے نئے قوانین لا رہے ہیں، امن و گڈ گورننس ہماری ترجیح ہے،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر عملدرآمد کے بعد بورڈ کے اندرونی معاملات میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی افسران نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر معاملہ حل نہ ہوا تو یہ تنازع آئندہ امتحانی سیشن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

Scroll to Top