سرکاری ملازمین کتنے ماہ کی تنخواہ ایڈوانس لے سکتے ہیں؟ محکمہ خزانہ کی وضاحت جاری

حکومت نے کہاہے کہ وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس کے لیے درخواست دینے پر اپنی تنخواہوں کے مطابق ایڈوانس حاصل کر سکتے ہیں۔

گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین 36 ماہانہ تنخواہوں کے برابر اور گریڈ 17 اور اس سے زائد کے ملازمین 24 ماہانہ تنخواہوں کے برابر ایڈوانس لے سکیں گے۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ وضاحتی آفس میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ گریڈ 1 سے 16 تک کے وفاقی ملازمین “سرکاری اہلکار” جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے ملازمین “افسران” کے زمرے میں آتے ہیں۔

میمورنڈم کے مطابق جب بھی وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس کے لیے درخواست دیں گے تو انہیں فیڈرل گورنمنٹ ریسٹس اینڈ پیمنٹ رولز 2025 کے مطابق ایڈوانس فراہم کیا جائے گا۔

مذید بتایا گیا ہےکہ مذکورہ قانون کے تحت سرکاری اہلکار 36 ماہانہ تنخواہوں کے برابر جبکہ سرکاری افسران 24 ماہانہ تنخواہوں کے برابر رقم بطور ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پنشن میں بڑی تبدیلی ،سرکاری ملازمین کے لیے اہم خبر

وفاقی حکومت نے پنشن قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے نئی کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ اسکیم نافذ کر دی ہے جس کے تحت ملازمین اپنی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ پنشن کے لیے جمع کرائیں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق یہ اقدام حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے معاشی اہداف کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ پنشن کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی ملازمین اپنی تنخواہ کا 10 فیصد پنشن فنڈ میں جمع کروائیں گے جبکہ حکومت 12 فیصد کا اضافی کنٹریبیوشن دے گی جس سے کل 22 فیصد رقم پنشن فنڈ میں جمع ہوگی۔

نئی اسکیم یکم جولائی 2024 سے وفاقی ملازمین پر لاگو ہو گی، جبکہ مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے اس کا نفاذ یکم جولائی 2025 سے متوقع ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، ملازمین ریٹائرمنٹ سے قبل پنشن اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے اہل نہیں ہوں گے اور ریٹائرمنٹ کے وقت انہیں اپنے فنڈ کا 25 فیصد حصہ نکلوانے کی اجازت دی جائے گی۔

Scroll to Top