اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اب ایک نیا فورم میسر ہوگا جہاں دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے جا سکیں گے۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں اور دوست ممالک پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو یہ بات تسلیم کرنا پڑی کہ دہشت گرد کارروائیاں بند ہوں گی اور اب ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے خلاف مزید دہشت گردانہ کارروائیاں نہیں ہوں گی۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کے خلاف سزا کا تعین کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی میں افغان طالبان کی جانب سے فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بھی شامل ہیں اور افغان طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
پاک افغان سرحدوں کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ سرحدیں کھولنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور افغانستان استنبول مذاکرات میں جنگ بندی پر متفق ہوگئے
یاد رہے کہ ترکی اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں امن عمل کو آگے بڑھانے اور حالیہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
اعلامیہ ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیاگیا، مشترکہ اعلامیے کے مطابق ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان 25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں مذاکرات ہوئے۔
یہ مذاکرات دوحہ میں 18 اور 19 اکتوبر کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو مضبوط بنانے کے لیے منعقد کیے گئے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے ، جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط 6 نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔
فریقین نے جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تصدیق کا ایک مشترکہ نظام تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے جو کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھے گا۔





